Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuhu

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

May the peace, mercy, and blessings of Allah be with you

*صحيح مسلم # ٦٢٢٥*

*Sahih Muslim # 6225*

حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ، يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا، وَمَا لَا، فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ قَالَ: *قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ .*

Yazid b. Hayyan reported: I went along with Husain b. Sabra and ‘Umar b. Muslim to Zaid b. Arqam and, as we sat by his side, Husain said to him, “O Zaid! you have been able to acquire a great virtue that you saw Allah’s Messenger (ﷺ), listened to his talk, fought by his side in battles, and offered prayer behind him. Zaid! you have in fact earned a great virtue. Zaid! narrate to us what you heard from Allah’s Messenger (ﷺ).” He (Zaid) said: I have grown old and have almost spent my age and I have forgotten some of the things which I remembered in connection with Allah’s Messenger (ﷺ), so accept whatever I narrate to you, and which I do not narrate do not compel me to do that. He then said: *One day Allah’s Messenger (ﷺ) stood up to deliver sermon at a watering place known as Khumm situated between Makkah and Madina. He ﷺ praised Allah, extolled Him and delivered the sermon and exhorted (us) and said, “Now to our purpose. O people! I ﷺ am a human being; I ﷺ am about to receive a messenger (the angel of death) from my Lord so I ﷺ will accept (to call of death); but I ﷺ am leaving among you two weighty things; the first of this is the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it.” He ﷺ exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said, “And then are the members of my household; I ﷺ ask you to be mindful of Allah in matter of my household; I ﷺ ask you to be mindful of Allah in matter of my household; I ﷺ ask you to be mindful of Allah in matter of my household.”* He (Husain) said to Zaid: Who are the members of his household? Aren’t his wives the members of his family? Thereupon *he (Zaid) said: His wives are the members of his family, (and also) the members of his family are those for whom acceptance of Zakat is forbidden. And he (Husain) said: Who are they? Thereupon he said: ‘Ali and the offspring of ‘Ali, ‘Aqil and the offspring of ‘Aqil and the offspring of Ja’far and the offspring of ‘Abbas. Husain said: These are those for whom the acceptance of Zakat is forbidden? Zaid said: Yes.*

یزید بن حیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم (تینوں) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے قریب بیٹھ گئے تو حصین نے ان سے کہا، “زید! آ پ کو خیر کثیرحاصل ہوئی، آپ نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی، ان ﷺ کی بات سنی، ان ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کیا، اور ان ﷺ کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں۔ زید! آپ کو خیر کثیرحاصل ہوئی۔ زید! ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی (کوئی) حدیث سنائیے۔” (زید رضی اللہ عنہ نے) کہا، “بھتیجے! میری عمر زیادہ ہو گئی، زمانہ بیت گیا، رسول اللہ ﷺ کی جو احادیث یاد تھیں ان میں سے کچھ بھول چکا ہوں؛ اب جو میں بیان کروں اسے قبول کرو، اور جو (بیان) نہ کر سکوں تو اس کیلئے مجھ پر بوجھ نہ ڈالو۔” پھر کہا: *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ”خم“ کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا، “اس کے بعد اے لوگو! میں ﷺ آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے؛ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔” غرض کہ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا، “اور میرے اہل بیت ہیں۔ میں ﷺ تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں؛ میں ﷺ تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں؛ میں ﷺ تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔” (حصین نے) کہا: اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون سے ہیں؟ کیا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ (حصین نے) کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس رضوان اللہ علیہم کی اولاد ہیں۔ (حصین نے) کہا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔*